views
قدرتی آفات اور حادثات میں فوری مدد کو پہنچنے والے بابائے خدمت عبدالستار ایدھی دو سال قبل آج کے روز دنیائے فانی سے کوچ کر گئے تھے۔
عبدالستار ایدھی 1928 میں بھارتی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد 1947 میں اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آگئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔
عبدالستار ایدھی نے اپنی زندگی کے 65 برس دکھی انسانیت کی خدمت میں گزارے جس کا آغاز انہوں نے 1951 میں ایک ڈسپنسری قائم کر کے کیا۔
اسپتال اور ایمبولینس خدمات کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن نے کلینک، زچگی گھر، پاگل خانے، معذوروں کے لیے گھر، بلڈ بینک، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور اسکول کھولے۔
پاکستان کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن دنیا کے دیگر کئی ممالک میں بھی دکھی انسانیت کی خدمت سرانجام دے رہی ہے۔
1980 کی دہائی میں حکومت پاکستان نے انہیں نشان امتیاز سے نوازا جب کہ پاک فوج نے انہیں شیلڈ آف آنر کا اعزاز دیا اور 1992 میں حکومت سندھ نے انہیں سوشل ورکر آف سب کونٹی ننیٹ کا اعزاز دیا۔
بین الاقوامی سطح پر 1986 میں عبدالستار ایدھی کو فلپائن نے رومن میگسے ایوارڈ دیا اور 1993 میں روٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی جانب سے انہیں پاؤل ہیرس فیلو دیا گیا۔
8 جولائی 2016 کو بابائے خدمت گردوں کے عارضے میں مبتلاہو کر 88 برس کی عمر میں جہانِ فانی سے کوچ کرگئے تھے جن کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردخاک کیا گیا۔
Comments
0 comment