views
برازیل کے شہر ریو دی جنیرو میں قائم ملک کے قدیم ترین سائنسی ادارے نیشنل میوزیم میں شدید آگ بھڑک اٹھی ہے جو کبھی پرتگال کے شاہی خاندان کی رہائش گاہ ہوا کرتا تھا اور رواں سال کی ابتدا میں اس کی تعمیر کا 200 سالہ جشن منایا گیا تھا۔

آگ اتوار کو میوزیم بند ہونے کے بعد بھڑکی اور پھر پوری عمارت میں پھیل گئی۔ آگ بجھانے والا عملہ آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔

عمارت میں لگنے والی آگ سے رات روشن رہی اور شہر ریو دی جنیرو میں دھوئيں کے بادل اٹھتے نظر آئے۔

کسی بھی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں لیکن میوزیم کے نوادرات کو نقصان پہنچنے کا شدید خدشہ لاحق ہے۔

آگ بجھانے والا عملہ تندہی کے ساتھ آگ پر قابو پانے میں لگا ہوا ہے تاکہ اس قومی وراثت کو کسی حد تک بچایا جا سکے۔

اس میوزیم میں برازیل اور مصر سمیت دوسرے ممالک کی تواریخ سے متعلق 20 ہزار نادر اشیا رکھی ہوئی تھیں جن میں برازیل کے شاہی خاندان کے ذخائر بھی تھے۔

اس میوزیم کے قدرتی تاریخ کے ذخائر میں ڈائنوسار کی ہڈیاں اور ایک خاتون کا 12000 سال پرانا ڈھانچہ رکھا ہوا تھا۔ یہ ڈھانچہ امریکی بر اعظموں پر دریافت ہونے والا قدیم ترین ڈھانچہ تھا۔

برازیل کے ٹی وی گلوبو کے ساتھ ایک انٹرویو میں میوزیم کے ڈائریکٹر نے اسے 'ثقافتی سانحہ' قرار دیا ہے۔

آگ لگنے کی وجوہات کا ابھی علم نہیں ہو سکا ہے۔ برازیل کے صدر مائیکل ٹیمر نے ایک ٹویٹ میں اسے برازیل کے تمام باشندوں کے لیے 'افسوسناک دن' قرار دیا ہے۔

برازیل کے صدر نے یہ بھی کہا کہ ہماری تاریخ کی قدر کا اس عمارت کو ہونے والے نقصانات سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے۔'

ریو دی جنیرو کے باشندے اس عجائب گھر میں آگ لگنے پر صدمے میں ہیں جبکہ اس سے قبل میوزیم کے ملازمین نے فنڈ میں کٹوتی اور عمارت کی خستہ حالت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
Comments
0 comment