views

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں محمود سرحان نامی ایک نوجوان نے قاہرہ کے چڑیا گھر کا دورہ کیا جہاں وہ ایک زیبرا کو دیکھ کر شش و پنج کا شکار ہوگئے۔
وہ سوچ میں پڑ گئے کہ زیبرا کے کان چھوٹے ہوتے ہیں جب کہ چڑیا گھر میں موجود 'زیبرا' کے کان بڑے ہیں، دوسری جانب زیبرا کی تھوتھنی (منہ) سیاہ رنگ کی ہوتی ہے، جبکہ اس 'زیبرا' کا منہ سرمئی رنگ کا ہے۔
بس پھر کیا تھا، انہوں نے زیبرا کے ساتھ ایک سیلفی اور اس کی چند تصاویر لیں اور اسے ٹوئٹر اور فیس بک پر پوسٹ کردیا۔
انہوں نے اس بات سے صاف انکار کردیا کہ انہوں نے گدھے پر کالے رنگ سے مصوری کرکے اسے زیبرا جیسی شکل دی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق چڑیا گھر کے ڈائریکٹر محمد سلطان کا اس بات پر اصرار تھا، 'یہ جانور بلاشبہ زیبرا ہی ہے'۔
دوسری جانب سرحان کی پوسٹ کردہ تصویر پر ٹوئٹر صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے اور زیبرے اور گدھے کی تصاویر بھی شیئر کرکے دونوں کے درمیان فرق واضح کیا۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ اس کو کیا کہیں ’زونکیز‘ یا ’دیبراز‘ جب کہ کچھ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس کے خلاف ضرور آواز اٹھانی چاہیے تھی۔
Comments
0 comment