لوٹوں کا ہم سفر
لوٹوں کا ہم سفر
کیا لوٹوں کا ہر انتخاب سے قبل بار بار پارٹیاں بدلنے کا ماضی ان کے حال کا آئینہ دار نہیں؟ )

کیا لوٹوں کا ہر انتخاب سے قبل بار بار پارٹیاں بدلنے کا ماضی ان کے حال کا آئینہ دار نہیں؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

قاعدہ یہ ہے کہ حرام چیز لیبل بدلنے سے بھی حرام رہتی ہے۔ سود کا نام منافع رکھ دیں یا شراب کا لیبل بدل کر مصفی دودھ لکھ دیں تو بھی یہ حرام ہی رہیں گے۔ اسی طرح آپ لوٹے کا نام بدل کر باغی رکھ لیجیے، وننگ ہارس کہہ لیجیے یا الیکٹیبل وہ پھر بھی لوٹا ہی رہے گا۔

لاہور، پشاور، کراچی اور کوئٹہ والوں کو اگر اسی وڈیرے، جاگیردار، لٹیرے، سرمایہ دار، گدی نشین، بدمعاش یا لوٹے کی ہی غلامی کرنی جن کی سال ہا سال سے کر رہے تھے؛ وہی اعوان، گوندل، وڑائچ، راجے، ہاشمی، قریشی اور ترین ہی حاکم بنیں گے اور عوام محکوم رہیں گے تو پیارے دوست، کیا اسے تبدیلی کہیں گے؟ معذرت کے ساتھ عرض کرتا چلوں کہ پی ٹی آئی وہی پرانی شراب نئے ٹائٹل کے ساتھ بیچ رہی ہے، خود کو اور عوام کو بھی دھوکا دے رہی ہے۔ آپ سوچتے ہیں کہ کل کو وہ چور دوسرے چور کا احتساب کریں گے جو خود احتساب کے عمل سے گزرے ہی نہیں۔ خان صاحب جن سے آپ کو حساب لینا تھا، وہ تو آپ کے ساتھی بن چکے ہیں۔

What's your reaction?

Comments

https://justmazaa.com/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!

Facebook Conversations

Disqus Conversations