نوازشریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست پر سماعت آج ہوگی
نوازشریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست پر سماعت آج ہوگی
نواز شریف کی جانب سے طبی بنیادوں پر دائر درخواست پر سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ علاج نہ ہوا تو گردے ناکارہ ہوسکتے ہیں،رہائی کے بغیر علاج ممکن نہیں۔


سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں طبی بنیادوں پر ضمانت کے لئے درخواست دائر کی گئی، جو 26 جنوری کو سماعت کیلئے مقرر کی گئی۔ جسٹس عامرفاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ آج درخواست کی سماعت کرے گا۔

نوازشریف کی جانب سےاسلام آبادہائیکورٹ میں 2الگ درخواستیں دائر کی گئیں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف کو انسانی ہمدردی اور ضروری چیک اپ کیلئے ضمانت دی جائے، جیل میں ہونے کی وجہ سے ان کا مناسب چیک اپ نہیں ہو رہا،عدالت جتنے مچلکے حکم کرے جمع کرا دیں گے۔

درخواست میں نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ میاں صاحب کا موقف ہے کہ ان کے دل کا ایک حصہ بری طرح متاثر ہے، گردوں کی بیماری بھی تیسرے درجے پر پہنچ چکی ہے، علاج نہ ہوا تو گردے ناکارہ ہو سکتے ہیں، رہائی کے بغیر علاج ممکن نہیں۔ درخواست کے ساتھ میڈیکل بورڈ کی رپورٹس بھی عدالت میں جمع کرائی گئی ہے۔

نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست سماعت کیلئے منظور

سابق وزیراعظم کا مؤقف ہے کہ احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف مرکزی اپیل زیر سماعت ہے۔ درخواست میں چیئرمین نیب، جج احتساب عدالت اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو فریق بنایا گیا ہے۔

قبل ازیں گزشتہ ہفتے جمعرات کو سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں والدہ، بیٹی مریم نواز سمیت لیگی رہنماؤں نے ملاقات کی تھی ، ملاقات میں نواز شریف نے بازو اور سینے میں تکلیف کی شکایت سے آگاہ کیا اور کہا کہ علاج ہر قیدی کا حق ہے، لیکن مجھے اس حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔

ملاقات کے بعد لیگی رہنما وں نے بھی نواز شریف کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کیا تھا، جب کہ حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ نواز شریف بالکل ٹھیک ہیں خطرے کی بات نہیں، چکنائی سے پرہیز کریں۔

What's your reaction?

Comments

https://justmazaa.com/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!

Facebook Conversations

Disqus Conversations