views

واٹرلو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جنوری2019ء) اگر آپ اپنی یاداشت بہتر بنانا چاہتے ہیں تو کینیڈین سائنسدانوں نے اس کا سائنسی طریقہ خاکہ سازی میں ڈھونڈ لیا ہے،ماہرین نے اس طریقہ کو بالخصوص عمر رسیدہ افراد کے لئے انتہائی موضوع قرار دیا ہے کیونکہ تجربات میں ان کی یاداشت بہتر ہوتی دکھائی دی گئی۔کینیڈین صوبہ اونٹاریو میں قائم واٹر لو یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طریقہ علاج کے لئے کسی کا ڈرائنگ میں ماہر ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ خاکوں (ڈوڈلنگ) سے بھی یاداشت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
سائنسدان ملیسا مید کے مطابق یہ طریقہ الزائمر اور ڈائمنشیا کو بھی روکنے میں معاون ثابت ہوتا ہے،عمر رسیدہ افراد میں ڈرائنگ اور خاکے سے اشیاء یاد رکھنے کے بہت اطھے نتائج ملے ہیں۔
ڈائمنشیا کے مریضوں کے لئے بھی اسے موئثر پایا ہے جن کی یاداشت اور گفتگو تیزی سے زوال پذیر ہوتی ہے۔اس تحقیق میں 48 ممالک کے شرکاء کو شامل کیا جن میں سے نصف کی عمر 20 سال کے لگ بھگ تھی اور بقیہ نصف افراد کی عمر 80 برس تھی۔
ان شرکاء کو مختلف دماغی ورزشیں کروائی گئی،پہلے مرحلے میں انہیں کوئی لفظ یا لفظ سے وابستہ کوئی تسویر یا خاکہ بنانے کا کہا گیا اور پھر وقفے بعد انہیں الفاط دہرانے کا بولا گیا ۔نوجوانوں نے ادھیڑ عمر افراد سے زیادہ اچھی کارکردگی دکھائی لیکن دونوں گروپس نے وہ الفاط سہولت سے ادا کئے جن کے انہوں نے خاکے بنائے تھے۔تحقیق کاروں کے مطابق خاکہ سازی ایک سادہ سا کام ہے جس کو روزمرہ زندگی میں اپنا کر یاداشت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
مچال کے طور سودا لینے جا رہے ہین تو چیزون کے نام لکھنے کے بجائے خاکے بنا لیں تو یوں بازار میں یاد کرتے ہوئے الفاظ کی دہرائی میں آسانی ہو گی۔ماہرین کے مطابق سمعی،بصری،معنوی، زبانی اور حرکتی تضربات مین تصویر سازی سے یاد رکھنے کا عمل سب سے موئثر ہے اور اسی بناء پر خاکہ سازی سے یاد رکھنے کا عمل بہت موئثر ہے۔
Comments
0 comment