views

ہنڈریڈ انڈیکس دو سال تین ماہ کی کم ترین سطح سینتیس ہزار سے بھی نیچے آگیا۔ سرمایہ کاروں کے ایک سو پچاسی ارب روپے ڈوب گئے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے مرکزی انڈیکس میں آج پیر کو دن 12 بجے تک 1000 پوائینٹس کی کمی ہوچکی تھی۔ یہ کسی بھی ایشیائی مارکیٹ میں ہونی والی سب بڑی کمی ہے۔ اسٹاک ایکسچینج 2016 کے بعد سے کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے ۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ معاشی بے یقینی کی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کار مسلسل اپنا سرمایہ مارکیٹ سے نکال رہے ہیں۔
تجزیہ کار کہتے ہیں مارکیٹ میں موجود سرمایہ 50 بلین ڈالر کی سطح پر آگیا ہے جو کہ صرف چھ ماہ پہلے 80 بلین ڈالرز تھا۔
کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ہنڈریڈ انڈیکس آج پیر کو 12 بجے تک 3 فیصد گر کے 36320 پوائینٹس کی سطح پر آچکا تھا۔ مارکیٹ کو پچھلے کئی دنوں سے مندی کے رجحان کا سامنا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کار ملک کی معیشت کے حوالے سے شک و شبے کا شکار ہیں۔
پچھلے کاروباری ہفتے کے دوران کراچی اسٹاک ایکسچینج کے ہنڈریڈ انڈیکس میں 4 فیصد کی کمی ہوئی تھی۔ سرمایہ کاروں کو خوف تھا کا عالمی مارکیٹ کے اُبھرتے ہوئے انڈیکس ایم ایس سی آئی سے کچھ اسٹاکس کو نکال دیا جائے گا۔ یعنی پاکستانی اسٹاکس مثلا حبیب بینک، اور لکی سیمنٹ جو اس عالمی انڈیکس کا فی الوقت حصہ ہیں، سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عالمی انڈیکس یقیناً ایک قابل ذکر وجہ ہے لیکن ملک میں پائی جانے والی بے یقینی کی صورتحال اور کچھ دوسرے عالمی رجحانات بھی سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
پاکستان کو ڈالرز کی کمی کا سامنا بھی ہے جس سے درامدات کی ادائیگی کی جاتی ہے اور ملک پر واجب الادا قرضہ چکایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ملک ناکام ریاست (ڈیفالٹ) قرار دیے جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ بیل آؤٹ پیکج کے لیے پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف کی دہلیز پر پہنچ چکا ہے ۔ لیکن پاکستان کو اس کی قیمت بھی چکانی پڑے گی۔۔۔ یعنی آئی ایم ایف کی مرضی کا ایکسچیینج ریٹ، بلند تر انٹریسٹ ریٹ، بجلی، گیس اور تیل کی پہلے سے بھی زیادہ قیمتیں۔ یہی نہیں حکومت کو کو اپنے اخراجات پر بھی قابو پانا پڑے گا۔
ایک عام آدمی کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو عالمی مالیاتی فننڈ کے ان مطالبات پر عملدرآمد کے نتیجے میں معاشی ترقی کی رفتار نہ صرف کم ہوگی بلکہ بے روزگاری کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ ڈالر مزید مہنگا ہوجائے گا، یوٹیلیٹی بلز اور پیٹرول کی قیمیتیں بھی آسمان کو چھونے لگیں گی، جس سے مہنگائی کے طوفان میں شدت ائے گی۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کار ملک سے اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں، اسکی وجہ معاشی غیریقینی کی صورتحال ہے ۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لینے کا دیر سے فیصلہ کیا، یہ بھی سرمایہ کاروں کے اس فیصلے کی ایک وجہ ہے۔
سرمایہ کار سوچتے ہیں کہ ڈالر مہنگا ہوگا تو اسٹاکس میں ہونے والے فائدے کا اثر بھی زائل ہوجائے گا، بس اس سوچ کے زیر اثر انہوں نے اپنا پیسہ پاکستان کی مارکیٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ صورتحال معمول پر واپس آنے کے بعد شاید وہ واپس آجائیں۔
اس وقت، امریکی معیشت سنبھل رہی ہے، سرمایہ کاروں کو وہاں زیادہ کشش نظر آرہی ہے ، اسی لیے وہ پاکستان جیسی دوسری معیشتوں سے اپنا پیچھا چھڑا رہے ہیں۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں نے گذشتہ ہفتے 32.6 ملین مالیت کے حصص فروخت کردیے، پچھلے آٹھ ہفتوں کے دوران یہ سے بڑی فروخت ہے۔ کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستانی اسٹاک مارکیٹ 3500 کی سطح پر آجائے گی جبکہ دوسروں کو خوف ہے کہ انڈیکس مزید نیچے گرے گا۔
دنیا بھر کی سرمایہ کاری کی مارکیٹس میں مندی کا رجحان دیکھا جارہا ہے، مگر اس سال کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو کراچی اسٹاک ایکسچینج سب سے زیادہ ناکام ثابت ہوا ہے ۔
Comments
0 comment