views
اب سائنسدانوں نے تحقیق میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں سونگھنے کی حس متاثر ہونے کی بنیادی وجہ معلوم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق عام طور پر سونگھنے کی حس متاثر ہونے کی سب سے بنیادی وجہ وائرل انفیکشن ہوتی ہے جس میں مثال کے طور پر عام نزلا یا سانس کی نالی سے متعلق انفیکشنز شامل ہیں۔
لیکن یہ سونگھنے کی صلاحیت ناک بند ہونے کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے اس لیے ان کیسز میں ایسا ہوتا ہے کہ انفیکشن ختم ہوجانے کے بعد انسان کی سونگھنے کی حس بھی فوراً واپس آجاتی ہے۔
لیکن سائنسدانوں کے مطابق اگر کووڈ-19 یعنی کورونا وائرس کی بات کی جائے تو سونگھنے کی حس متاثر ہونے کی وجہ مختلف دیکھی گئی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے بہت سے مریضوں کی سونگھنے کی صلاحیت اچانک متاثر ہوئی اور وہ ایک یا دو ہفتے کے دورانیے میں واپس ٹھیک ہوگئی۔
وائرس سے متاثرہ بہت سے مریضوں کا کہنا تھا کہ اس دوران ان کی ناک بند نہیں تھی مگر پھر بھی وہ کسی بھی خوشبو یا بدبو کو محسوس نہیں کر سکتے تھے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے یہ بات سامنے آئی کے کورونا کے مریضوں میں سونگھنے کی صلاحیت ناک بند ہونے کی وجہ سے متاثر نہیں ہوتی۔
سائنسدانوں کے مطابق کووڈ-19 کے مریضوں میں اروما مالیکیولز یعنی (خوشبو کے ذرات) ناک میں موجود ریسپٹرز تک نہیں پہنچ پاتے۔
اس کی وجہ جاننے کے لیے ماہرین نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا سی ٹی اسکین لیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ متاثرہ مریض کی ناک میں موجود سونگھنے کی صلاحیت رکھنے والا حصہ جسے 'اولفیکٹری کلیفٹ' کہتے ہیں وہ میوکس اور وہاں موجود نرم پٹھوں میں سوجن کی وجہ سے بلاک یعنی بند تھا۔
اس کنڈیشن کو سائنسی اصلاح میں 'کلیفٹ سینڈروم' کہا جاتا ہے اور سی ٹی اسکین میں دیکھا گیا کہ متاثرہ شخص کی ناک بالکل صاف ہے جس کی وجہ سے اسے ناک کے ذریعے سانس لینے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں ہوتا۔
Comments
0 comment