views
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سنگاپور کے مقامی ٹیکسی ڈرائیور نے فیس بک پر کورونا سے متعلق جھوٹی پوسٹ کی جس میں اس نے ریسٹورینٹس اور ہوٹلز بند ہونے کی غلط اطلاع دی اور لوگوں کو اکسایا کہ وہ حکومتی پابندیوں کی وجہ سے کھانا گھروں میں ذخیرہ کرلیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سنگاپور کے پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس شخص نے یہ اطلاع ایک فیس بک میسنجر گروپ پر بھی دی جس کے ممبران کی تعداد 7 ہزار سے زائد ہے جب کہ اس نے 15 منٹ بعد پھر اس میسج کو ڈیلیٹ کردیا۔
پولیس کو اس شخص کی جانب سے افواہ پھیلانے کی اطلاع موصول ہوئی جس پر اسے دھر لیا گیا اور افواہ پھیلانے کے جرم میں کورونا سے متعلق نافذ سخت قوانین کے تحت اسے4 ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔
پبلک پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ جھوٹی اطلاع دینے پر ملنے والی سزا دیگر افراد کو اس عمل سے روکنے میں مدد دے گی۔
واضح رہےکہ سنگاپور میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سخت قوانین نافذ کیے گئے ہیں جن میں غلط اطلاع پھیلانے پر 7 ہزار ڈالر جرمانہ اور 3 سال قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔
گزشتہ ماہ کورونا کے شبے میں قرنطینہ میں موجود شخص اپنے قرنطینہ کا دورانیہ ختم ہونے سے 30 منٹ پہلے پراٹھا خریدنے کے لیے گھر سے باہر نکلا جسے ایک ہزار ڈالر کا جرمانہ کیا گیا۔
سنگاپور میں کورونا کیسز
سنگاپور میں کورونا کے کیسز کی تعداد 33 ہزار سے زائد ہے جب کہ 23 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
Comments
0 comment