views

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں جوڑوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مشغول ہوتے دیکھا گیا جس پر عوام نے ویڈیوز بنانے پر برہمی کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے اسٹریٹجک ریفارمز یونٹ کے سابق ڈائریکٹر جنرل سلمان صوفی نے سب سے پہلے اس معاملے کو ٹویٹر پر اجاگر کیا۔
سلمان صوفی نے لکھا کہ ویڈیوز کا اس طرح منظر عام پر آکر وائرل ہونا کسی بھی صورت قبول نہیں کیونکہ یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس بات کا مطالبہ کیا کہ ایسے تمام سینما اور تھیٹر جہاں کیمروں کی فوٹیج کا مناسب انتظام اور سیکیورٹی موجود نہیں وہاں محفوظ کی گئیں ویڈیوز کی ریکارڈنگ کو فوری ڈیلیٹ کیا جائے۔
سلمان صوفی نے مزید لکھا کہ ٹکٹ پر اس بات کا اندراج کریں کہ انتظامیہ سینما گھروں اور تھیٹر آنے والوں کی کسی بھی طرح کی ویڈیو بغیر اجازت بنانے کی مجاز نہ ہو۔ یہ رازداری کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کی کبھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
واقعے سے متعلق ڈیجیٹل حقوق کی کارکن اور وکیل نگہت داد کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں ایسی کمپنیوں، ٹیلی کام سیکٹرز، آئی ایس پیز اور دیگر اداروں کو کبھی اس بات کا پابندی بنایا ہی نہیں گیا کہ کیسے صارفین کے ڈیٹا سے متعلق ان کا احتساب کیا جائے۔
سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے نگہت داد نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں لیکن آج تک کسی نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ایسی ویڈیوز سے متاثرہ افراد شرمندگی یا بدنامی کے خوف سے سامنے نہیں آتے اور نہ کبھی کوئی آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ویڈیوز منظر عام پر آنے سے لوگوں کی زندگیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔ ان کے مطابق ’’آپ کی ذاتی معلومات کا تحفظ آپ کا حق ہے‘‘۔
نگہت داد نے کہا کہ مسئلے کا طویل المیعاد حل لوگوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے قانون سازی ہے۔ اس حوالے سے آگاہی سیشن اسکولوں، کالجوں اور دفاتر میں کروانے چاہیئے تاکہ عوام کو اپنے حقوق کا علم ہوسکے۔
ٹویٹر پر سلمان صوفی نے کہا کہ اس حوالے سے وہ تھیٹر کےخلاف مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹر پر ’’رازداری آپ کا حقوق‘‘ سے متعلق مہم شروع کر چکے ہیں۔
جوڑوں کی ویڈیوز وائرل ہونے پر عوام اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ لوگوں کو عوامی جگہ پر اس طرح کی حرکات کرنی چاہیئے یا نہیں۔ ایک شخص نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’’اسطرح کی ویڈیوز کا منظر عام پر آنا بالکل غلط ہے لیکن عوامی بےحیائی سے متعلق کیا کہا جائے؟ میرا مطلب سینما ایک عوامی جگہ ہے اور وہاں اس طرح کا عمل کرنا۔۔۔ اس پر خود کا احتساب کرنا چاہیئے‘‘۔
Comments
0 comment