views
اس شرط کا مقصد ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو ’’یوٹیوب مونیٹائزیشن پروگرام‘‘ سے غلط طور پر فائدہ اٹھاتے ہوئے مالبنانے میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ اس پروگرام کے تحت کسی یو ٹیوب ویڈیو پر وقفے وقفے سے (کونے میں) ’ایڈسینس‘ اشتہارات ظاہر ہوتے ہیں اور جو ویڈیو جتنی زیادہ مرتبہ دیکھی جاتی ہے، اس کا تخلیق کار بھی ان اشتہارات کے ذریعے اتنی ہی زیادہ رقم کماسکتا ہے۔
اگرچہ اس پروگرام کے ذریعے پیسہ کمانے کےلیے ویڈیو کے ’اوریجنل‘ ہونے کی شرط پہلے دن سے موجود ہے لیکن لالچی افراد اور اداروں نے نہ صرف چھوٹی چھوٹی ویڈیو کلپس چوری کرکے جعلی ’اوریجنل ویڈیوز‘ بنانا شروع کردیں بلکہ مختلف جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے نت نئے یوٹیوب چینل بناکر ویسی ہی ویڈیوز ان پر ڈالنا شروع کردیں تاکہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کماسکیں۔
اس خبر کو بھی پڑھیں: اب پاکستانی بھی یوٹیوب سے پیسہ کماسکیں گے
اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرنے اور اصل ویڈیوز کے تخلیق کاروں کو جائز طور پر معاوضہ دینے کےلیے یوٹیوب نے فیصلہ کیا ہے کہ اب صرف اسی یوٹیوب چینل کو مونیٹائزیشن پروگرام میں شمولیت کا اہل قرار دیا جائے گا جس پر ویوز کی مجموعی تعداد 10 ہزار یا اس سے زیادہ ہوگی۔
اس بارے میں یوٹیوب وائس پریزیڈینٹ پروڈکٹ مینجمنٹ ایریئل بیرڈین نے اپنے ایک تازہ بلاگ میں لکھا ہے کہ اب کسی بھی نئے چینل پر بطورِ خاص نظر رکھی جائے گی کہ وہ اوریجنل ویڈیوز ہی شیئر کرارہا ہے یا نہیں؛ اور اگر وہ چینل 10 ہزار ویوز ہوجانے تک یوٹیوب کے قواعد و ضوابط کی پابندی کرتا رہے گا تو پھر اس کی ویڈیوز پر اشتہارات بھی دکھائے جائیں گے اور ان ویوز پر چینل کے مالک/ تخلیق کار کو معاوضہ بھی دیا جائے گا۔
Comments
0 comment