views

تینوں سی ای اوز کی جانب سے ان کے نمائندے پیش ہوئے اور حکام کو بتایا کہ دو تیل کمپنیوں کے سی ای اوز لاہور جب کہ ایک اسلام آباد میں ہیں۔
ایف آئی اے حکام نے کہا ہے کہ دوبارہ طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر ٹھوس قانونی کارروائی متوقع ہے اور وزارت پیٹرولیم کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کا لائسنس کی منسوخی سمیت مختلف امکانات پر غور کیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ مزید 7 تیل کمپنیوں کے سی ای اوز کو طلب کیا گیا ہے اور ان تمام کمپنیوں پر تیل کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کا الزام ہے۔
ایف آئی اے حکام نے نوٹس میں تمام سی ای اوز کو اسٹیٹ بینکنگ سرکل طلب کیا ہے اور تمام کو ضروری ریکارڈز ہمراہ لانے کا حکم دیا گیا ہے، تمام سی ای اوز کو بالترتیب 15، 16 اور 17 جون کو پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں یکم جون سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد سے ملک بھر میں پیٹرول کا بحران پیدا ہوگیا ہے اور حکومت اب تک اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور گذشتہ روز ایف آئی اے نے دیگر متعلقہ اداروں کے ہمراہ کیماڑی آئل فیلڈ پر نجی تیل کمپنی کے ڈپو پر چھاپہ مارا تھا جہاں تیل کا بڑا ذخیرہ موجود تھا۔
Comments
0 comment